اسلام آباد: اپوزیشن نے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ارکان کی تقرری سے متعلق وزیراعظم شہباز شریف کے جواب کا خیرمقدم کرتے ہوئے حکومت کے ساتھ دوبارہ رابطے کا فیصلہ کیا ہے۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی نے وزیراعظم کے جواب پر مزید مشاورت کے لیے دوبارہ رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کے ساتھ باضابطہ مشاورتی عمل شروع کرنے کی درخواست کی جائے گی۔
محمود اچکزئی نے پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان سے ملاقات کی، جس میں راجا ناصر عباس بھی شریک ہوئے۔ ملاقات کے دوران محمود اچکزئی نے وزیراعظم کے خط اور چیف الیکشن کمشنر سمیت الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری سے متعلق حکومتی جواب پر اپوزیشن رہنماؤں کو اعتماد میں لیا۔
ملاقات میں پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کو ہونے والے احتجاج اور مارچ کی تیاریوں پر بھی مشاورت کی گئی۔ اپوزیشن رہنماؤں نے آل پارٹیز کانفرنس بلانے سے پہلے تمام سیاسی جماعتوں سے رابطہ کرنے پر اتفاق کیا۔ مجوزہ آل پارٹیز کانفرنس کا مقصد ملک میں جاری سیاسی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنا ہے۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کا اجلاس بھی 15 ستمبر کو بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس میں آل پارٹیز کانفرنس کی تیاریوں میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ حکومت کے ساتھ رابطے ضرور ہیں، تاہم اس وقت حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان باضابطہ مذاکرات یا بیک ڈور بات چیت نہیں ہورہی۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا دروازہ کھلا ہے اور سیاسی مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی اپنے بانی عمران خان کی رضامندی کے بغیر مذاکرات کے حوالے سے کوئی قدم نہیں اٹھائے گی۔ ان کے مطابق مذاکرات کب، کہاں، کن افراد کے درمیان اور کن شرائط پر ہوں گے، اس کا فیصلہ عمران خان ہی کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی پہلے بھی مذاکرات کی حمایت کرتی رہی ہے اور ماضی میں مذاکرات کے لیے کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ماضی میں مذاکرات کے معاملے پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کو بھی کمزوری سمجھا گیا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سیاسی مسائل کے حل کے لیے جلد مذاکرات ہونے چاہئیں۔ ان کے مطابق اگر بات چیت ہوتی ہے تو اسے سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ آگے بڑھانا ہوگا۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ حکومت کی جانب سے 27 ستمبر کے مجوزہ ’’انصاف مارچ‘‘ کو روکنے کے لیے کوئی پیشکش نہیں کی گئی۔ انہوں نے لوگوں کو مارچ میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ یہ کسی ذاتی پسند یا شوق کا معاملہ نہیں بلکہ انصاف کے لیے مارچ ہے۔
بیرسٹر گوہر نے یقین دہانی کرائی کہ مارچ کے دوران کسی قسم کی بدنظمی یا انتشار پیدا نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پی ٹی آئی عمران خان کی اجازت کے بغیر کوئی بڑا سیاسی قدم نہیں اٹھائے گی۔
وزیراعظم کے خط سے متعلق سوال پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بالآخر جواب دے دیا گیا ہے۔ انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے پی ٹی آئی کے رابطے کی بھی تصدیق کی، تاہم رابطوں کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے حکومت کے ساتھ رابطوں کی کبھی تردید نہیں کی۔ ان کے مطابق مذاکرات عمران خان کی پالیسی کا حصہ ہیں اور مستقبل میں مذاکرات کے وقت، مقام، شرکاء اور شرائط کا فیصلہ بھی پارٹی بانی ہی کریں گے۔
حالیہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اپوزیشن جماعتیں سیاسی مسائل کے حل کے لیے آل پارٹیز کانفرنس کے ذریعے وسیع تر مشاورت پر غور کر رہی ہیں، جبکہ پی ٹی آئی 27 ستمبر کے مارچ کی تیاریوں میں مصروف ہے۔