
دانتوں میں کیڑا لگنے کا علاج اب پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو سکتا ہے۔ سائنس دانوں نے ایک ایسا نیا طریقہ دریافت کیا ہے جس کی مدد سے صرف چند سیکنڈ میں دانتوں کی خرابی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے، اور اس کے لیے نہ ڈرلنگ کی ضرورت پڑتی ہے، نہ انجیکشن کی اور نہ ہی بے ہوشی کی۔
امریکا میں ہونے والی ایک بڑی تحقیق کے مطابق سلور ڈائی امائن فلورائیڈ نامی ایک خاص محلول اگر کیڑا لگے دانت پر لگایا جائے تو یہ خاص طور پر بچوں کے دودھ کے دانتوں میں خرابی کو روکنے میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ تحقیق میں علاج کیے گئے نصف سے زیادہ دانتوں میں کیڑا مزید نہیں بڑھا۔
ماہرین کے مطابق اس طریقۂ علاج کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ بچوں کو درد، انفیکشن اور بعض صورتوں میں سرجری سے بھی بچایا جا سکتا ہے۔ البتہ اس علاج کے بعد دانت کا متاثرہ حصہ مستقل طور پر سیاہ ہو جاتا ہے، جو اس کا ایک ممکنہ منفی پہلو ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ عام طور پر ابتدائی مرحلے میں دانتوں کے کیڑے کا فوری علاج ہر جگہ دستیاب نہیں ہوتا، اس لیے یہ نیا طریقہ مستقبل میں بچوں کے لیے ایک آسان اور مؤثر متبادل ثابت ہو سکتا ہے۔