وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ریاست کو نقصان پہنچانے، ہتھیار اٹھانے اور عوام کو گمراہ کرنے والے عناصر کو اپنے جرائم کا حساب دینا ہوگا۔
وفاقی وزیر امیر مقام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ریاست کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث افراد کو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہتھیار اٹھانے، عوام کو ورغلانے اور تحریک آزادی جموں و کشمیر کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
رانا ثناء اللہ نے دھرنا دینے والوں سے اپیل کی کہ وہ اپنا احتجاج ختم کریں تاکہ آزاد کشمیر کی باقی نشستوں پر بھی ضمنی انتخابات کرائے جا سکیں اور عوام کے منتخب نمائندے اسمبلی کا حصہ بن سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دھرنا دینے والے عناصر آزاد کشمیر کے عوام کو ان کے حقِ رائے دہی سے روکنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ آج کی پولنگ مکمل ہونے کے بعد آزاد کشمیر کے انتخابات کے تینوں مراحل مکمل ہو جائیں گے۔
انہوں نے آزاد کشمیر کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ الزام لگانے والوں نے اب تک کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا۔
ان کے مطابق مخالفین صرف 80 یا 85 فیصد ٹرن آؤٹ کو دھاندلی کا ثبوت قرار دے رہے ہیں، حالانکہ بعض علاقوں میں مقامی برادری اور خاندانی نظام کی وجہ سے زیادہ ووٹنگ ہونا غیر معمولی بات نہیں۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ آزاد کشمیر کے بعض پولنگ اسٹیشنز پر 80 فیصد تک ووٹنگ ہوئی، جس کی بڑی وجہ وہاں موجود مضبوط برادری اور خاندانی نظام ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مخالف امیدواروں کے اپنے یونین کونسلز اور پولنگ اسٹیشنز پر بھی 80 فیصد سے زیادہ ووٹ کاسٹ ہوئے ہیں۔
رانا ثناء اللہ کے مطابق عوام کے مینڈیٹ کے مطابق آزاد کشمیر اسمبلی اور حکومت سازی کا عمل آگے بڑھایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد اسمبلی اور حکومت سازی کے مراحل آئینی طریقہ کار کے مطابق مکمل کیے جائیں گے۔