ایران نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی اثاثوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو خطے میں موجود امریکی تیل اور گیس کمپنیوں کے مفادات کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ خطے میں تیل اور گیس کی پیداوار کا نظام وسیع ہے اور امریکی کمپنیوں کے مفادات بھی اس دائرے میں موجود ہیں۔
قالیباف نے امریکی اقدامات کے جواب میں سخت ردعمل کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کے اثاثوں کو نشانہ بنایا گیا تو ایران بھی جواب دے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران پہلے ہی اپنی جوابی صلاحیت ثابت کرچکا ہے اور امریکی فوجی اڈوں کی صورتحال اس کی مثال ہے، تاہم انہوں نے کسی مخصوص فوجی اڈے کا نام نہیں بتایا۔
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی جانب سے ایرانی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کی وارننگ دی گئی ہے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا تھا کہ اگر ایران امریکی بحری جہازوں پر حملہ کرتا ہے تو واشنگٹن ایرانی آئل ٹینکرز کو تباہ کرسکتا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خلیج اور آبنائے ہرمز میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور تیل کی ترسیل کو بھی خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ حالیہ کشیدگی کے دوران عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔