گزشتہ ڈیڑھ ماہ میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں کتنا اضافہ ہوا؟

اسلام آباد: پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے اور گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوچکا ہے۔ صرف گزشتہ چار روز میں پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 25 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 20 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا ہے۔

21 جولائی کے بعد سے پیٹرول کی قیمت 315 روپے 80 پیسے فی لیٹر سے بڑھ کر 370 روپے 80 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ اس طرح ڈیڑھ ماہ کے دوران پیٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 55 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا ہے۔

اسی طرح ڈیزل کی قیمت بھی 21 جولائی کے بعد 360 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 398 روپے 4 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔ اس عرصے کے دوران ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 38 روپے فی لیٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

حالیہ اضافے کی بات کی جائے تو گزشتہ چار روز میں پیٹرول کی قیمت میں 24 روپے 93 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 20 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث شہریوں کے روزمرہ اخراجات پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ ہے، کیونکہ ایندھن کی قیمت بڑھنے سے ٹرانسپورٹ اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ حکومت کی جانب سے پیٹرولیم لیوی میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی میں 14 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ شرح 66 روپے سے بڑھ کر 80 روپے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

دستاویزات کے مطابق موجودہ پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 24 فیصد جبکہ ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 25 فیصد حصہ پیٹرولیم لیوی کا ہے۔ حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی سے بڑی مقدار میں آمدن حاصل کرتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران حکومت نے پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1567 ارب روپے وصول کیے، جو مقرر کیے گئے ہدف سے 99 ارب روپے زیادہ ہیں۔ اس مالی سال کے لیے پیٹرولیم لیوی کی وصولی کا ہدف 1468 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا۔

رواں مالی سال حکومت نے پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1676 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس کے علاوہ کاربن لیوی کی مد میں بھی 100 ارب روپے سے زائد حاصل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1220 ارب روپے وصول کیے گئے تھے، جبکہ مارچ سے جون 2024 کے دوران پیٹرولیم لیوی سے حکومت کو 300 ارب روپے کی آمدن حاصل ہوئی تھی۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ مسلسل اضافے کے باعث عوام میں تشویش پائی جاتی ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات ٹرانسپورٹ، اشیائے ضروریہ اور دیگر شعبوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top