واشنگٹن: ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث امریکی دفاعی ذخائر پر بڑھتے دباؤ نے امریکی حکام کی تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔ امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ جنگ کے دوران مسلسل دفاعی وسائل کے استعمال سے اہم ہتھیاروں کے ذخائر کم ہوتے جارہے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس نے مشرق وسطیٰ، یورپ اور ایشیا میں موجود امریکی فوجی کمانڈروں سے رابطہ کرکے ایران جنگ کی صورتحال اور امریکی فوجی صلاحیتوں کے حوالے سے تفصیلی اور بے لاگ جائزہ طلب کیا۔
رپورٹ کے مطابق امریکی فوجی کمانڈروں نے اعلیٰ حکام کو بتایا کہ امریکی گولہ بارود کے ذخائر تاریخی طور پر کم ترین سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ ایران کی جانب سے کیے جانے والے جوابی حملوں کو روکنے کے لیے دفاعی نظام کے مسلسل استعمال کے باعث پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کے ذخائر بھی کم ہوتے جارہے ہیں۔
امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ اگر دفاعی ذخائر اسی رفتار سے کم ہوتے رہے تو مستقبل میں دیگر ممکنہ خطرات سے نمٹنے کی امریکی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔ خاص طور پر چین، روس اور شمالی کوریا جیسے ممالک کے حوالے سے امریکی دفاعی تیاریوں پر اس صورتحال کے اثرات کے بارے میں تشویش ظاہر کی جارہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حکومت جنگ میں اپنی بقا کے لیے غیر معمولی دباؤ برداشت کرنے کے لیے تیار دکھائی دیتی ہے۔ ایران کی جانب سے جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں امریکا کو اپنے دفاعی ہتھیاروں اور انٹرسیپٹرز کا مسلسل استعمال کرنا پڑ رہا ہے، جس سے ان کے ذخائر پر مزید دباؤ بڑھ رہا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی ایران جنگ کی موجودہ حکمت عملی اور اس کے نتائج کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔ امریکی حکام اب جنگ کی پیش رفت، دفاعی ذخائر کی صورتحال اور مستقبل میں درپیش ممکنہ خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔