اسلام آباد: عالمی سطح پر سیمی کنڈکٹر اور موبائل چپس کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات پاکستان تک بھی پہنچنے کا امکان ہے، جس کے باعث آئندہ دنوں میں اسمارٹ فونز کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔
صنعتی ذرائع کے مطابق مصنوعی ذہانت (AI) کے لیے استعمال ہونے والے جدید ڈیٹا سینٹرز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی طلب نے عالمی چپ مارکیٹ پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی میموری چپس، ویفر مینوفیکچرنگ، پیکجنگ اور دیگر اہم الیکٹرانک پرزہ جات مہنگے ہونے سے اسمارٹ فون چپس کی تیاری کی لاگت میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پیداواری لاگت میں ہونے والا یہ اضافہ اب دنیا بھر کی موبائل انڈسٹری کو متاثر کر رہا ہے، جس کے اثرات مختلف ممالک کی مارکیٹوں میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق دنیا کی معروف موبائل چپ ساز کمپنی Qualcomm نے اپنے صارفین کو آگاہ کر دیا ہے کہ مختلف اقسام کی چپس کی قیمتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر عالمی سطح پر خام مال اور چپس کی قیمتوں میں یہی رجحان برقرار رہا تو پاکستان میں درآمد ہونے والے اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں بھی مزید اضافے کا امکان موجود ہے۔