حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کر دی۔
حکومت نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ کسی ایک قیدی کو نجی اسپتال منتقل کرنے کی اجازت دینے سے جیل اور کریمنل جسٹس سسٹم کے قواعد متاثر ہو سکتے ہیں۔ درخواست میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ اگر یہ حکم برقرار رہا تو دیگر قیدی بھی جیل رولز سے ہٹ کر اپنی پسند کے نجی اسپتال میں علاج کی سہولت کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔
نظرثانی درخواست میں حکومت نے مؤقف اپنایا کہ اس طرح خصوصی سہولتوں کے مطالبات کا ایک سلسلہ شروع ہو سکتا ہے اور ہر قیدی اپنی مرضی کے اسپتال میں منتقل ہونے کی درخواست کرے گا۔ حکومت نے سپریم کورٹ سے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے حکم واپس لینے کی استدعا کی ہے۔
حکومت کی جانب سے یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ کیس کی کارروائی میں ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر بھی فریق تھا، تاہم سپریم کورٹ نے کارروائی کے دوران اس پہلو کا نوٹس نہیں لیا۔
دوسری جانب عمران خان کو گزشتہ شب طبی معائنے کے لیے پمز اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں ماہر امراض چشم، امراض قلب اور فزیشن سمیت ڈاکٹرز کی ٹیم نے ان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا۔ حکومتی بیان کے مطابق طبی معائنے کے دوران عمران خان کی ہمشیرہ عظمیٰ خان بھی موجود تھیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق ڈاکٹرز نے طبی معائنے کے بعد عمران خان کو صحت مند قرار دیا، جس کے بعد انہیں 21 اگست کی صبح تقریباً 5 بجے دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ عمران خان کا طبی معائنہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کیا گیا، جبکہ شفا اسپتال کے ڈاکٹرز بھی طبی معائنے کے عمل میں موجود تھے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے شفا اسپتال کے راستے اور باہر سیکیورٹی کی صورتحال پیدا ہونے کے باعث عمران خان کو پمز اسپتال لے جایا گیا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ عمران خان کو ضرورت کے مطابق طبی سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں اور آئندہ بھی طبی ضرورت پیش آنے پر انہیں علاج اور ضروری طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔