ایک نئی تحقیق میں روزانہ چینی سے بھرپور مشروبات استعمال کرنے والے افراد کے حوالے سے تشویشناک نتائج سامنے آئے ہیں۔ تحقیق کے مطابق باقاعدگی سے میٹھے مشروبات پینے کا تعلق معدے کے کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرے سے پایا گیا ہے، تاہم محققین نے واضح کیا ہے کہ اس تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ مشروبات براہِ راست کینسر کا سبب بنتے ہیں۔
تحقیق طبی جریدے Gastro Hep Advances میں شائع ہوئی، جس میں ایک لاکھ 12 ہزار سے زائد افراد کے صحت سے متعلق اعداد و شمار کا کئی دہائیوں تک جائزہ لیا گیا۔ اس دوران 278 افراد میں معدے کے کینسر کی تشخیص ہوئی۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ کم از کم ایک مرتبہ چینی سے میٹھا مشروب استعمال کرتے تھے، ان میں معدے کے کینسر کا خطرہ ان افراد کے مقابلے میں تقریباً دوگنا پایا گیا جو ماہانہ ایک مرتبہ سے بھی کم ایسے مشروبات استعمال کرتے تھے۔
مزید تجزیے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ روزانہ ایک سے زیادہ چینی سے میٹھے مشروبات، جن میں سافٹ ڈرنکس، لیمونیڈ اور اسپورٹس ڈرنکس شامل ہیں، استعمال کرنے والوں میں معدے کے کینسر کا خطرہ شاذ و نادر ہی ایسے مشروبات استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں تقریباً ڈھائی گنا زیادہ تھا۔
محققین کے مطابق تحقیق میں شامل زیادہ تر میٹھے مشروبات میں فرکٹوز استعمال کیا گیا تھا اور فرکٹوز سے میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال معدے کے کینسر کی بلند شرح سے منسلک پایا گیا۔
دوسری جانب کم کیلوری یا مصنوعی مٹھاس والے کاربونیٹڈ مشروبات کے زیادہ استعمال اور معدے کے کینسر کے خطرے کے درمیان کوئی واضح تعلق سامنے نہیں آیا۔
تحقیق کے مطابق ہیلیکوبیکٹر پائلوری (H. pylori) انفیکشن معدے کے کینسر کے خطرے میں اضافے کا ایک اہم عنصر سمجھا جاتا ہے، تاہم تحقیق میں شامل افراد کے ایک ذیلی گروپ میں چینی سے میٹھے مشروبات کے استعمال اور H. pylori انفیکشن کے درمیان کوئی تعلق نہیں ملا۔
محققین کا کہنا ہے کہ میٹھے مشروبات اور معدے کے کینسر کے درمیان تعلق کی ممکنہ وجوہات میں وزن میں اضافہ، انسولین کے خلاف مزاحمت، ہارمونز میں تبدیلی اور جسم میں سوزش شامل ہوسکتی ہے۔
سائنس دانوں نے تاہم خبردار کیا ہے کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس کے نتائج کی بنیاد پر یہ حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ میٹھے مشروبات معدے کے کینسر کا براہِ راست سبب بنتے ہیں۔ مزید تحقیق کے ذریعے اس تعلق کی نوعیت کو بہتر طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔