
بلوچستان کے علاقے سورینج میں کوئلے کی کان میں ہونے والے ہولناک دھماکے نے کئی خاندانوں کے چراغ گل کر دیے۔
ریسکیو ٹیموں نے مسلسل کئی گھنٹوں کی کارروائی کے بعد اب تک 34 کان کنوں کی لاشیں ملبے سے نکال لی ہیں، جبکہ حادثے کے وقت کان کے اندر کم از کم 36 مزدور موجود تھے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے کی ممکنہ وجہ کان میں میتھین گیس کا جمع ہونا بتایا جا رہا ہے، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی سرکاری تصدیق نہیں کی۔
مزدور تنظیموں کا کہنا ہے کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ کان کا بڑا حصہ زمین بوس ہو گیا۔ حتیٰ کہ کان کے داخلی حصے سے کافی فاصلے پر موجود ہالیج آپریٹر اور ان کا معاون بھی جان کی بازی ہار گئے۔
اس افسوسناک سانحے نے ایک بار پھر کان کنوں کے کام کے دوران درپیش خطرات اور حفاظتی اقدامات پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ کئی خاندان اپنے پیاروں کے غم میں ڈوبے ہوئے ہیں۔