ماہرینِ غذائیت کے مطابق پیٹ پھولنے کی شکایت صرف کھانے پینے کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ قبض، ذہنی دباؤ، ہارمونز میں تبدیلی، پانی کا جمع ہونا اور بعض غذاؤں سے حساسیت بھی اس کی وجوہات بن سکتی ہیں۔
پیٹ پھولنا ایک عام مسئلہ ہے جس میں پیٹ بھرا ہوا، بھاری یا سوجا ہوا محسوس ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں اور ہر فرد میں اس کے محرکات مختلف ہو سکتے ہیں۔
ماہرِ غذائیت ڈاکٹر ایما ڈربی شائر کے مطابق پیٹ پھولنے کی عام اقسام میں گیس، جسم میں پانی جمع ہونا، ہارمونز سے متعلق پھولاؤ، بعض غذاؤں سے حساسیت اور نظامِ ہاضمہ کی سستی شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق قبض، ذہنی دباؤ، جلدی جلدی کھانا اور ماہواری کے دوران ہارمونز میں ہونے والی تبدیلیاں بھی پیٹ پھولنے کا سبب بن سکتی ہیں۔ ہارمونز میں تبدیلی بعض افراد میں جسم کے اندر پانی جمع ہونے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔
بعض غذائیں بھی حساس افراد میں گیس اور پیٹ پھولنے کی شکایت پیدا کر سکتی ہیں۔ ان میں پھلیاں، کاربونیٹڈ مشروبات، دودھ سے بنی اشیا، گلوٹن والی غذائیں، مصنوعی مٹھاس، فاسٹ فوڈ، بند گوبھی اور پھول گوبھی شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹ پھولنے سے فوری ریلیف کے لیے مناسب مقدار میں پانی پینا، پودینے کی چائے استعمال کرنا اور ہلکی چہل قدمی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
پیٹ پر نیم گرم پٹی رکھنا، تنگ لباس سے گریز کرنا اور کھانے کو جلدی جلدی کھانے کے بجائے آہستہ کھانا بھی بعض افراد میں تکلیف کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر کسی مخصوص غذا کے استعمال کے بعد بار بار پیٹ پھولتا ہے تو اپنی غذائی عادات اور علامات کا ریکارڈ رکھنا مفید ہو سکتا ہے۔ اس سے ممکنہ غذائی محرکات کی نشاندہی میں مدد مل سکتی ہے۔
طویل مدت تک پیٹ پھولنے سے بچنے کے لیے ماہرین روزانہ جسمانی سرگرمی، مناسب مقدار میں پانی پینے، ذہنی دباؤ کم کرنے اور کم مقدار میں مگر وقفے وقفے سے کھانا کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔
اگر پیٹ پھولنے کی شکایت مسلسل برقرار رہے یا بار بار ہو تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ خصوصاً شدید پیٹ درد، بخار، پاخانے میں خون یا بھوک میں نمایاں کمی جیسی علامات کے ساتھ پیٹ پھولنے کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔