پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں شکست کے بعد قومی ٹیم میں کی جانے والی بڑی تبدیلیوں کا دفاع کرتے ہوئے سلیکشن میں غلطیوں کا اعتراف کرلیا۔
لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ ٹیسٹ ٹیم میں تبدیلیاں ضروری تھیں، کیونکہ جو کھلاڑی کارکردگی نہیں دکھا رہے انہیں ہمیشہ ٹیم میں برقرار نہیں رکھا جاسکتا۔ ان کے مطابق ٹیم میں تبدیلیاں صرف کارکردگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ دیگر عوامل کو بھی سامنے رکھ کر کی گئی ہیں۔
محسن نقوی نے اعتراف کیا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی کارکردگی اچھی نہیں رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ انگلینڈ کے خلاف ہارے گئے دونوں ٹیسٹ میچز کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور ان شکستوں سے سبق سیکھ کر مستقبل کے لیے بہتر فیصلے کرنا ہوں گے۔
پاکستان کو انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں اننگز سے شکست ہوئی تھی جبکہ دوسرے ٹیسٹ میں لارڈز کے میدان پر 194 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس شکست کے بعد انگلینڈ نے تین ٹیسٹ میچز کی سیریز میں 2-0 کی فیصلہ کن برتری حاصل کرلی۔
انگلینڈ کے خلاف تیسرے اور آخری ٹیسٹ سے قبل پاکستان نے ٹیسٹ اسکواڈ میں بڑی تبدیلیاں کی ہیں۔ تیسرا ٹیسٹ 9 ستمبر کو برمنگھم میں کھیلا جائے گا۔
لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد محمد رضوان، امام الحق، سلمان علی آغا، علی عثمان، عامر جمال، اویس ظفر اور خرم شہزاد کو اسکواڈ سے ریلیز کردیا گیا ہے۔
ان کی جگہ عرفات منہاس، محمد عمران جونیئر، سعد بیگ، محمد عمران رندھاوا اور رضا اللہ کو اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ پانچوں کھلاڑی ابھی تک ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیل سکے۔
صائم ایوب اور عبداللہ فضل کو بھی اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ دونوں کھلاڑیوں کے پاس مجموعی طور پر صرف 10 میچز کا تجربہ ہے۔
قومی ٹیم کے کوچنگ اسٹاف میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ وائٹ بال کوچنگ سیٹ اپ سے مائیک ہیسن اور ایشلے نوفکے کو بالترتیب ہیڈ کوچ اور بولنگ کوچ کی ذمہ داریاں دی گئی ہیں جبکہ سرفراز احمد اور عمر گل کو ان کے عہدوں سے ریلیز کردیا گیا ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ اگر کوئی کھلاڑی کارکردگی نہیں دکھا رہا تو اسے تبدیل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے سلمان علی آغا کو اچھا کھلاڑی قرار دیا، تاہم کہا کہ وہ حالیہ میچز میں مطلوبہ کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔
چیئرمین پی سی بی نے سلیکشن میں غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ انتخاب میں غلطیاں ہوجاتی ہیں اور آنے والے دنوں میں دیکھا جائے گا کہ بورڈ ان غلطیوں کو دور کرنے کے لیے کیا اقدامات کرتا ہے۔
محسن نقوی نے پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ میں کارکردگی کو انتہائی خراب قرار دیتے ہوئے کہا کہ قومی ٹیم کو بہتری کے لیے ابھی طویل سفر طے کرنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کو صرف تین یا چھ ماہ میں عالمی رینکنگ میں نویں نمبر سے پہلے نمبر پر نہیں لایا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ پی سی بی ایسی حکمت عملی تیار کررہا ہے جس کے ذریعے پاکستان دنیا کی بڑی ٹیموں کا بہتر مقابلہ کرسکے اور انہیں شکست دینے کے قابل ہوسکے۔
ٹیسٹ کرکٹ میں خراب کارکردگی کے باوجود محسن نقوی نے وائٹ بال کرکٹ میں پاکستان کی بہتری کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق پاکستان کی ون ڈے رینکنگ آٹھویں سے پانچویں نمبر پر آئی ہے جبکہ قومی ٹیم نے اپنی آخری چھ ون ڈے سیریز میں سے چار میں کامیابی حاصل کی ہے۔
ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں بھی پاکستان کی رینکنگ نویں سے چھٹی پوزیشن پر آئی ہے۔ محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ نئے کوچز کی آمد کے بعد ٹیم کی کامیابی کی شرح 24 فیصد سے بڑھ کر 73 فیصد ہوگئی ہے۔
انگلینڈ کے خلاف شکست اور ٹیسٹ اسکواڈ میں بڑی تبدیلیوں کے بعد پاکستان کرکٹ کو سابق کھلاڑیوں، شائقین اور تجزیہ کاروں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ انہیں تنقید سے خوف نہیں آتا اور ہر شخص کو شکست پر سوال اٹھانے کا حق حاصل ہے، تاہم تنقید حقائق کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات ایک شکست کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے جیسے پاکستان کرکٹ ختم ہوچکی ہو۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے پاس حقائق موجود ہیں تو وہ ضرور بات کرے، لیکن بے بنیاد الزامات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ محسن نقوی نے واضح کیا کہ لوگ ان پر تنقید کرسکتے ہیں لیکن پاکستان کرکٹ اور کھلاڑیوں کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
چیئرمین پی سی بی نے بتایا کہ وہ قومی ٹیم سے متعلق فیصلوں میں سابق پاکستانی کرکٹرز سے مسلسل رائے لیتے ہیں۔ انہوں نے وسیم اکرم اور وقار یونس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان جیسے سابق کھلاڑیوں کی رائے کو اہمیت دی جائے گی۔
محسن نقوی کے مطابق موجودہ تبدیلیاں صرف انگلینڈ کے خلاف سیریز میں شکست کا ردعمل نہیں بلکہ پاکستان کرکٹ کو بہتر بنانے کی وسیع کوشش کا حصہ ہیں۔ پی سی بی ٹیم کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہا ہے اور آنے والے دنوں میں مزید فیصلے بھی کیے جاسکتے ہیں۔
فی الحال پاکستان کی توجہ انگلینڈ کے خلاف تیسرے اور آخری ٹیسٹ پر ہے۔ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ ہر میچ اہم ہے اور قومی ٹیم کو مضبوط بنانے کے لیے بورڈ اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔