
کراچی میں میر رضا علی کی ہلاکت کے کیس میں میڈیکل رپورٹ کے معاملے پر پولیس اور پولیس سرجن کے درمیان اختلافات سامنے آ گئے ہیں، جبکہ تحقیقات کے حوالے سے اہم سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کراچی پولیس چیف نے کہا کہ ابتدائی میڈیکل رپورٹ پولیس سرجن کے ماتحت تعینات ڈاکٹر نے تیار کی تھی۔ ان کے مطابق ایم ایل او نے لاش کا معائنہ کرنے کے بعد رپورٹ پولیس سرجن کو بھجوائی، تاہم پولیس سرجن نے یہ رپورٹ دو روز تک اپنے پاس رکھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر رپورٹ میں کوئی خامی موجود تھی تو اسے فوری طور پر درست کیا جانا چاہیے تھا۔
پولیس چیف کے مطابق پولیس سرجن نے نہ خود لاش کا معائنہ کیا اور نہ ہی پوسٹ مارٹم کیا، جبکہ پولیس کی اب تک کی تمام تحقیقات ابتدائی میڈیکل رپورٹ کی بنیاد پر آگے بڑھتی رہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ لاش کے ہاتھوں پر گن پاوڈر کی موجودگی یا عدم موجودگی کی تصدیق بھی انتہائی اہم تھی۔ ان کے مطابق کرائم سین یونٹ نے جائے وقوعہ سے تمام شواہد اکٹھے کر کے میڈیکل ٹیم کے حوالے کیے تھے، لہٰذا اگر پولیس سرجن کو کسی بھی معاملے پر تحفظات تھے تو انہیں بروقت پولیس کو آگاہ کرنا چاہیے تھا۔
کراچی پولیس چیف نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ دنیا بھر میں ہائی پروفائل مقدمات میں میڈیکل ٹیم جائے وقوعہ کا معائنہ کرتی ہے، لیکن اس کیس میں ایسا کیوں نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب ایڈیشنل آئی جی نے کہا کہ اگر میر رضا کے اہل خانہ چاہیں تو دوبارہ میڈیکل معائنہ بھی کرایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے مبینہ طور پر غائب ہونے والے اسلحے کی تلاش جاری ہے، جبکہ ویڈیو میں نظر آنے والے کچرا چننے والے شخص کو بھی تلاش کیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق گمشدہ اسلحہ برآمد ہونے سے کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت متوقع ہے اور اس سے معاملے کے کئی پہلو مزید واضح ہو سکتے ہیں۔