شوگر کے مریضوں کیلئے خطرے کی گھنٹی، ہر سال 3 لاکھ افراد پاؤں سے محروم

پاکستان میں ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے ساتھ اس کی پیچیدگیاں بھی تشویشناک صورت اختیار کرتی جارہی ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق ہر سال تقریباً 3 لاکھ افراد ذیابیطس سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث اپنے پاؤں سے محروم ہوجاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے باعث پاؤں میں زخم اور السر سمیت کئی سنگین مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 20 سے 80 سال کی عمر کے افراد میں ذیابیطس کی شرح 31.4 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ متاثرہ مریضوں میں تقریباً 18 فیصد ڈائبیٹک فٹ السر کا شکار ہوتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق ذیابیطس کے نتیجے میں پاؤں یا ٹانگ سے محروم ہونے والے مریضوں میں اموات کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایسے مریضوں میں تقریباً 50 فیصد افراد تین سال کے اندر جبکہ 70 فیصد پانچ سال کے اندر انتقال کرجاتے ہیں۔

ذیابیطس کو عام طور پر شوگر کے مرض کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم مناسب مقدار میں انسولین پیدا نہ کرسکے یا انسولین مؤثر طریقے سے کام نہ کرے، جس کے نتیجے میں خون میں گلوکوز کی مقدار بڑھنے لگتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ذیابیطس کی مختلف وجوہات اور خطرے کے عوامل ہوسکتے ہیں، جن میں موٹاپا، جینیاتی عوامل، ذہنی دباؤ اور دیگر جسمانی و طرزِ زندگی سے متعلق عوامل شامل ہیں۔ مرض کی بروقت تشخیص نہ ہونے کی صورت میں جسم کے مختلف اعضاء متاثر ہوسکتے ہیں۔

بے قابو ذیابیطس کے باعث دل کی بیماری، فالج، بینائی متاثر ہونے، گردوں کو نقصان پہنچنے اور پاؤں میں سنگین پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اسی لیے شوگر کے مریضوں کے لیے خون میں گلوکوز کی سطح کو قابو میں رکھنا اور باقاعدگی سے طبی معائنہ کرانا ضروری سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ذیابیطس پر قابو پانے میں متوازن غذا اور باقاعدہ جسمانی سرگرمی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ باقاعدگی سے چہل قدمی اور ورزش خون میں شوگر کی سطح کو بہتر رکھنے میں مدد دے سکتی ہے، جبکہ علاج اور ادویات سے متعلق فیصلے ڈاکٹر کے مشورے سے کیے جانے چاہئیں۔

ذیابیطس کا فی الحال کوئی ایسا مکمل علاج موجود نہیں جو ہر مریض میں بیماری کو مستقل طور پر ختم کردے، تاہم بروقت تشخیص، مناسب علاج، متوازن طرزِ زندگی اور باقاعدہ طبی نگرانی کے ذریعے اس کی پیچیدگیوں کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کیا جاسکتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top