وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ عالمی معاہدوں پر ان کی روح اور الفاظ کے مطابق مکمل عملدرآمد ضروری ہے، جبکہ پانی کو سیاسی مقاصد یا دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ناقابل قبول ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہان مملکت اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پانی خطے کی لائف لائن اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کی ضمانت ہے۔ جنوبی ایشیا پائیدار امن کے بغیر اپنی مکمل صلاحیت حاصل نہیں کرسکتا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ مکہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ پاکستان کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانے کا حامی ہے۔ پاکستان تنازعات کے پرامن حل اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر یقین رکھتا ہے اور پائیدار علاقائی امن کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے، جو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ پاکستان نے علاقائی بحران کے دوران امن کے لیے مؤثر کردار ادا کیا۔
فلسطین کی صورتحال پر وزیراعظم نے کہا کہ عالمی برادری فلسطینیوں کے حق خودارادیت کا احترام کرے۔ غزہ اور مغربی کنارے میں جاری انسانی المیہ ناقابل تصور مصائب کا باعث بن رہا ہے، جبکہ عالمی اداروں کو اپنے اعلانات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہوگا۔
دہشتگردی کے حوالے سے شہباز شریف نے کہا کہ یہ خطے کو درپیش سنگین ترین خطرات میں سے ایک ہے۔ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دی ہیں جبکہ ملک کو 150 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے، تاہم افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ شنگھائی تعاون تنظیم عالمی امن و استحکام کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ ایس سی او کے 25 سال مکمل ہونا اہم سنگ میل ہے اور تنظیم مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے اجتماعی عزم کی علامت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی منظرنامہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی سے دوچار ہے، جبکہ حالیہ بحران نے محفوظ توانائی راہداریوں کی اہمیت واضح کردی ہے۔ علاقائی رابطہ کاری اب انتخاب نہیں بلکہ تزویراتی ضرورت بن چکی ہے۔